چند سوالوں کے جواب
*فقيــــر محمــــد امتيــــــــاز قمــــر رضـــوى امجــدى*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
( 1) السوال
کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام و مفتیان عظام اس درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کہ مرکزی غوثیہ جامع مسجد بٹھنڈی موڑ جموں کے امام و خطیب مولانا حسن رضا صاحب جنہوں نے مسجد ھذا میں تقریبا دس سال تک امامت کی پھر وہاں کے صدر کمیٹی الطاف بن غلام رسول نے امام صاحب پر بے اصل اور ناقابل برداشت الزامات لگانا شروع کر دئیے صدر موصوف کے مسلسل الزامات کی وجہ سے امام صاحب نے پریشان ہو کر استعفیٰ دے دیا پھر اس کے بعد صدر موصوف نے امام صاحب پر یہ الزام لگایا کہ معاذاللہ امام صاحب اپنے کمرے میں غیر محرم لڑکیوں کو لاتے ہیں ہیں۔
(٢)السوال
پھر وہاں امامت کے لئے مفتی محمد توصیف رضا مصباحی صاحب کو لایا گیا جنہوں نے وہاں تقریبا ایک سال تک امامت کی اور دوران لاک ڈاؤن بھی انہوں نے مسجد ھذا میں امامت کی لیکن پھر بھی بغیر وجہ شرعی کے معزول کر دیا اور ان پر بے اصل الزامات لگائے اور کہا کہ معاذ اللہ انہوں نے ہماری ماں بہنوں کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس رپورٹ کو پولیس چوکی میں غیرمسلم افسر سے لکھوایا پھر جب حضرت موصوف نے اپنی تنخواہ کا مطالبہ کیا تو جواب دیا کہ آپ نے رمضان میں اپنے لیے چندہ کیوں نہیں کیا۔
(٣) السوال
اور ایک حافظ صاحب مسمّی حافظ محمد عمران جنہوں نے اس مسجد میں دو سال تراویح پڑھائی جب ایک دن وہ اسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گئے تو وہاں صدر موصوف نے حافظ صاحب کو پکڑ کر ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں ڈرایا دھمکایا اور علمائے کرام کو برا بھلا کہنے کو کہا اور ان کے سامنے علمائے کرام کو گالیاں دیں۔
(٤)السوال
اور مسجد کے ساتھ ہی قائم ایک مدرسہ بنام فیضان مخدوم اشرف برکات رضا جہاں تقریبا دو ڈھائی سو طلبہ زیر تعلیم ہیں دوران لاک ڈاؤن جب چند دو طلبہیہاں قیام پذیر تھے تو ان سب پر خود ہی ظلم و تشدد کیا پھر پولیس کے ذریعے ان کو نکوال کر خود جامعہ ہذا پر قبضہ کرنے لگا اور جامعہ کے تالے توڑ کر اپنے تالے لگا لئے جب جدوجہد کے باوجود قبضہ نہ ہوسکا تو غیر مسلموں کو رشوت دے کر گورنمنٹ آف جموں و کشمیر کے ذریعے بند کروا دیا جس کی وجہ سے تعلیم کاسلسلہ بلکل منقطع ہوگیا۔مزیدجامعہ کے اندراساتذاطلباکے کثیرکتب، قرآن واحادیث کی ضائع ہورہی ہے۔کئی لاکھ کے سازوسامان ضائع ہورہے ہیں اس کاضامن کون ؟آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ اس صدر موصوف کے لیے کیا شرعی حکم ہوگا بینوا توجروا المستفتی ایاز احمد ضلع پونچھ
_____________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
( 1)الجواب بعون الملک الوہاب
کسی برحق امام کے اوپر بے اصل اور ناقابل برداشت الزام لگانا ناجائز ہے اور گناہ کبیرہ کا مستحق ہوا اور بے بنیادصحیح العقیدہ کسی امام پر الزام لگانا عذاب النار کا حقدار ہے لہذا الطاف بن غلام رسول صدر کمیٹی کو چاہیے مولانا حسن رضا صاحب سے معافی مانگیں اور اللہ کے بارگاہ میں توبہ استغفار کرے۔ اور جو بعد میں صدر موصوف نے الزام لگایا ہے کے کمرے میں غیر محرم لڑکیوں کو بلاتا ہے تو صدر موصوف چار چشم دید گواہوں سے ثابت کروائے اور اگر ثابت نہ کروا سکا تو وہ گنہگار حق العبد گرفتار اور مستحق عذاب نار ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔تقولون بافواھکم مالیس لکم به علم و تحسبونه هيناو هوا عند الله عظيم ۔یعنی تم اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں اور تم اسے ہلکا سمجھتے ہو حالانکہ وہ خدائے تعالی کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔پ 18 سورۂ نور ع 2۔واللہ اعلم
( 2) الجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کسی وجہ شرعی کے امام صحیح العقیدہ سنی کو معزول کرنا جائز نہیں ایسا کرنے والا سخت گنہگار ہے اور بےاصل الزام لگانا کافروں کا طریقہ ہے جنہوں نے جھوٹا الزام لگایا وہ برا کیا اور اپنے سر کھلا ہوا گناہ اٹھایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے والذین یؤذون المومنین والمؤمنات بغیر ماکتسبو فقد احقلو ا بھتاناو اثما مبینا ۔یعنی جو لوگ مسلمان مرد اور عورتیں کو نا کی ہوئی باتوں کے الزام سے ایذا دیتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلا ہوا گناہ اٹھایا ۔پ 22 سورۂ احزاب ع 7
بلاوجہ شررعی زنا کا الزام لگانا ناجائز و حرام ہے اور سخت گنہگار ہوا حاکم شرع کو بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم ردالمختار کے حوالے ہے آخری سطر سے چند عبارتیں۔ ثبوت زنا کے لیے چار عادل گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور زنا کا جھوٹا الزام لگانے والا 80 درے مارے جانے کا مستحق ہے صفحہ 241
لہذا اگر حکومت اسلامیہ ہوتی تو قرآن کریم کے فرمان کے مطابق زنا کے الزام لگانے والے کو چار گواہ نہ لانے کی صورت میں اسی 80 کوڑے مارے جاتے اور اسے ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے صورت میں اس پر اعلانیہ توبہ استغفار کرنا اور جس پر جھوٹا الزام لگایا ہے اسے معافی طلب کرنا لازمی ہے اور وہ ایسا نا کرے تو سب مسلمان اس کا بائیکاٹ کرے ور نہ وہ بھی گنہگار ہوں گے۔
امام صاحب جب وہاں موجود تھے تو پوری ذمہ داری کے ساتھ درس و تدریس و امامت میں مشغول رہتے تھے تو وہ اپنی اجرت کا مستحق ہے کمیٹی کا مدرسین کی تنخواہ وضح کر لینا جائز نہیں۔فتاوی مرکز تربیت افتاء۔ج اول۔
لہذا مقررہ چھٹیوں کا بھی پیسہ دینا ہوگا ورنہ گنہگار ہوں گے
واللہ اعلم۔
( 3)الجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس جگہ کا کوئی بھی صدر ہو علماء کو برا بھلا کہنا یا گالی دینا کفر ہے فتاویٰ امجدیہ جلد چہارم میں ہے جو تمام علماء کو برا بتائے اور سب کی توہین کرے وہ خود ہی سب سے برا ہے علماء کی توہین بحیثیت عالم کفر ہے فقہ کی کتابوں کو گڑہنٹ بتانا اور اس کی بے دینی کی دلیل ہے جو سب کو اچھا بتائے وہ قرآن و حدیث کے خلاف کہتا ہے قرآن وحدیث نے اچھوں کو اچھا اور بروں کو بد بتایا جو شخص معصیت کرے اسکو اچھا بتانا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ گناہ گناہ نہیں اور جس گناہ کا ثبوت نص قطعی سے ہو اسکے معصیت ہونے کا انکار کفر ہے مثلا شرابی جواری چور وغیرہ ہم سب ہی اچھے ہو تو یہ افعال گناہ نہ ہوئے اور ان کو گناہ نہ جاننا قرآن مجید کا انکار ہے یہ بات صحیح ہے کہ سب مسلمان بھائی ہیں جب کہ وہ حقیقتہ مسلمان ہوں مگر دعوی اسلام کے ساتھ اگر ضروریات دین کا انکار کرتا ہو تو وہ مسلمان ہی کیسا ہے اور ایسا شخص مسلمانوں کا بھائی نہیں افسوس یہ ہے کہ یہ شخص خود ہی اچھا اسے بتاتا ہے جو سب کو اچھا کہے اور پھر خود ہی علماء کو برا بتاتا ہے اور گالی دیتا ہے لہٰذا اپنے ہی قول مطابق یہ خود برا ہوا
بد دینی جب آدمی میں آتی ہے تو یو متنا قنس باتیں بکتا ہے ایسا شخص خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کی شیطانی باتوں کی طرف ہرگز توجہ نہ کی جائے نہ اس کے ساتھ مل جل کیا جائے۔ صفحہ 455
واللہ اعلم
( 4)الجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاک ڈاؤن کے درمیان میں مدرسے کو بند رکھنے کا حکم علماء ہند سے بھی دیا گیا تھا اگر مدرسے میں چند بچے تھے تو اس کے ساتھ ظلم وتشدد کرنے کے بجائے محبت کے ساتھ روانہ کیا جا سکتا تھا لہذا طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا بعد مدرسے کو رشوت دےکر گورنمنٹ آف جموں کشمیر کے ذریعے بند کروایا جس سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور اس میں بہت سارے دینی درسی کتابیں قرآن مجید فقہ کی کتابیں موجود ہیں اور کئی لاکھ کے ساز و سامان سب ضائع ہو رہے ہیں۔ جس کا ضامن وہ خود ہوا جنہوں نے گورنمنٹ آف جموں و کشمیر کہ پولیس کے حوالے کر وایا صدر موصوف نے دینی کتابیں قرآن و حدیث اور فقہ کی کتابوں کو توہین کرنے کی وجہ سے کفر کیا حالانکہ مدرسہ بند کرنے کا اعلان اس وقت یعنی لاک ڈاؤن میں صدر مفتی ہند نے کیا تھا۔لیکن غیر مسلموں کو رشوت دے کر گورنمنٹ سے مدرسہ بند کروانا اور فقہ کی کتابوں کو یہاں تک کہ قرآن وحدیث کی ضائع اور توہین کروانے کی وجہ سے صدر موصوف کا عمل کفر ہے جیسا کہ فقہاء نے فرمایا اگر کسی نے حدیث کی شرعی مسائل یا سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو توہین اور حقارت کی نیت سے پھینکا یا پھاڑ دیا تو اس پر حکم کفر ہے۔ فقہ کی کتاب کی توہین کفر ہے۔جو مسلمان کہلا کر فقہ یعنی دین کی سمجھ حاصل کرنے کو اصلا بالکل بھی نہ مانے تو نہ کتابی ہے نہ خارجی بلکہ مرتد ہے اسلام سے خارج
فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحہ نمبر 622
واللہ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا 6/2/2021/
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری یوپی6/2/2021/
Comments
Post a Comment